خبر کے متن سے یہ ثابت کرنے کی ناپاک کوشش کی گئی کہ پاک فوج اور آئی ایس آئی کے اس کردار کی بدولت پاکستان عالمی دنیا میں تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔

خبر کا سورس ” نامعلوم ” بتایا گیا۔

ڈان نیوز کی اس کہانی پر دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑی جنگ اور کامیاب جنگ لڑنے والی پاک فوج پر دنیا بھر میں انگیاں اٹھائی گئیں۔ خاص کر انڈیا نے اس خبر کو لے کر خوب ڈھنڈورا پیٹا کہ ” پاکستان ایک دہشت گرد ریاست ہے اور پاکستان کی فوج دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہی ہے جس کی پاکستان کے اپنے اخبارات تصدیق کررہے ہیں ” ۔۔

اس کے علاوہ انڈیا کے کچھ دفاعی حلقوں نے اس خبر کی مدد سے اپنی “سرجیکل سٹرائک” والی کہانی میں بھی رنگ بھرنے کی کوشش کی کہ ” چونکہ آئی ایس آئی ہمارے کامیاب سرجیکل سٹرائک کی بروقت خبر وزیراعظم نواز شریف کو نہ دے سکے اس لیے وہ ڈی جی آئی ایس آئی سے ناراض ہیں اور ان کو ہٹوانا چاہتے ہیں ” ۔۔۔۔

پاک فوج نے اس سارے معاملے پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کیا جس نے قومی سلامتی اور مفادات کو عالمی سطح پر نقصان پہنچایا اور پاکستان کے تشخص کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔

وزیراعلی اور وزیراعظم نے اس خبر کی تردید کی لیکن ڈان نیوز اپنی خبر پر قائم رہا۔
میڈیا مبصرین اور سوشل میڈیا کے مطابق درحقیقت پاک فوج پر دباؤ بڑھانے کے لیے یہ حکومت کا اپنا کھیلا گیا ڈرامہ تھا اور حکومت اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ حکومت کی جانب سے خبر کی تردید محض رسمی کاروائی تھی۔

ڈان نیوز کے بارے میں کچھ حقائق

ڈان نیوز کی مالکن کا نام امبر سہگل ہے جن کے شوہر اعظم سہگل کو وزیر اعظم نے پی آئی اے کا چیئرمین لگایا ہوا ہے اور اعظم سہگل کی بہن میاں منشاء کی اہلیہ ہیں۔ میاں منشاء کو نواز شریف کا فرنٹ مین کہا جاتا ہے۔ اس سے ڈان نیوز پر حکومتی اثر رسوخ کا اندازہ کیا جا سکتا ہے

ڈان لیکس کے بعد کی صورتحال

اس خبر کے 4 دن بعد نواز شریف نے راحیل شریف سے ایک اہم ملاقات کے بعد فوری طور پر سیرل المیڈا کا نام ای سی ایل میں ڈال لیا جس سے یہ تاثر پھیلنے لگا کہ ایسا پاک فوج کی فرمائش پر کیا گیا ہے۔ پاک فوج نے فوری طور پر اسکی تردید کی جس کے بعد دوسرے دن اس کا نام ای سی ایل سے دوبارہ نکال لیا گیا۔ 
اس پر مبصرین نے رائے دی کہ نام ای سی ایل میں ڈالنے کا مقصد ہی صحافی برادری کو پاک فوج کے خلاف کھڑا کرنا تھا جو پاک فوج کی تردید کے بعد ناکام ہوگیا تب نام دوبارہ نکال لیا گیا۔

اس کے بعد سرل المیڈا پاکستانی روائتوں کے مطابق ملک سے باہر تشریف لے گئے اور مرکزی ملزم کو بچا لیا گیا. چند غیر متعلقہ لوگ جن میں سب سے پہلے پرویز رشید کی قربانی دی گئی مگر جب فوج اور عوامی پریشر بڑھا تو پھر دو مزید قربانیاں دے کر اصل مجرموں کو پھر بچایا لیا گیا.

یہاں پیمرا کا کردار بھی سوالیہ نشان ہے جو حکومت کے خلاف اخبارات اور ٹی وی چینلزز کے خلاف کاروائی کرتے کوئے سیکنڈ نہیں لگاتی مگر جہاں حکومتی چہیتوں کے خلاف کچھ کرنا پڑے تو فورا عدت میں بیٹھ جاتی ہے.
ڈان لیکس پر کئی مرتبہ یو ٹرن لینے والے چودھری نثار ہوں یا مریم نواز کو بچانے میں مصروف مریم اورنگزیب یا سپریم کورٹ کے سامنے کھڑے ہو کر پریس کانفرنس کرنے والا درباریوں کا ٹولا یہ بات ضرور یاد رکھیں کہ ڈان نیوز کی اس من گھڑت خبر پر نہ صرف پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط موقف کو عالمی سطح پر زبردست جھٹکا لگا ہے بلکہ پاک فوج کو براہ راست دہشت گردوں کا سرپرست قرار دینے کی بھی کوشش کی گئی ہے جو کسی صورت پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے.

ڈان لیکس سے متعلق کچھ سوالات
 ڈان نیوز کے خلاف تاحال کوئی کاروائی نہیں کی گئی ؟؟
ڈان نیوز اتنے اہم اور حساس معاملے میں اپنی خبر کا سورس اب تک کیوں چھپا رہا ہے؟؟
صحافی کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا لیکن پھر نکال لیا گیا کیوں ؟؟
اگر کوئی اخبار حکومت کے خلاف ایسی کوئی جھوٹی خبر لگاتا تو کیا اسے جاری رہنے دیا جاتا؟؟