تازہ ترین

Posts Tagged “Budget 2017”

وفاقی بجٹ رضیہ بٹ کا ناول ہے، شیخ رشید

اسلام آباد: سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید احمد نے وفاقی بجٹ 2017-18 کو رضیہ بٹ کا ناول قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج عوام دشمن بجٹ پیش کیا گیا۔

شیخ رشید نے وفاقی بجٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مزدوروں کی کم سے کم تنخواہ 25 ہزار ہونی چاہیے آج پیش کیا جانے والا بجٹ ناول کے سوا کچھ نہیں۔

سربراہ عوامی مسلم لیگ نے کہا کہ 14 یا 15 ہزار میں پورا گھر چلانا ناممکن ہے اگر وزیر خزانہ اتنے ماہر معاشیات ہیں تو 15 ہزار روپے میں ایک گھر کا بجٹ بنا کر دکھائیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ اشرافیہ کا بجٹ ہے اور اشرافیہ کے لیے ہے غریب عوام کے لیے کبھی بجٹ میں کچھ نہیں ہوتا اس بجٹ میں بھی غریبوں کے لیے کچھ خاص نہیں۔

شیخ رشید نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کرنے والے کسانوں پرشیلنگ اور ہوائی فائرنگ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی میں چھرا گھونپا گیا اور کسانوں کے ساتھ ظلم کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ سے اور تو کچھ نہیں ہوگا بس غریب کا بچہ مزید غریب ہو جائے گا اور امیر کا بچہ امیر رہے گا اس بجٹ میں عوام کے لیے کوئی خوش خبری نہیں۔

 

Read more »

ماہ رمضان: اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ

کراچی: وفاقی بجٹ 18-2017 کی تباہ کاریاں ابھی عوام کو لرزاں کیے ہوئے تھیں کہ رمضان کے آغاز سے صرف ایک روز قبل ملک بھر میں اشیائے خور و نوش کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں۔

تفصیلات کے مطابق رمضان شروع ہونے سے قبل ہی حسب معمول منافع خوروں نے عوام کی جیب پر ڈاکہ ڈالتے ہوئے مختلف اشیا کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ کردیا۔

صرف 2 دن قبل 40 روپے کلو میں فروخت ہونے والے ٹماٹر 60 روپے فی کلو ہوگئے۔ پیاز کی قیمت 25روپے فی کلو جبکہ ہری پیاز اور مرچ 10روپے فی کلو تک کردی گئیں۔

لیموں کی فی کلو قیمت 430 روپے اور پالک 30روپے فی کلو ہوگئی۔ چند دن قبل تک 20 روپے فی کلو میں فروخت ہونے والے آلو کی قیمت بھی 30روپے ہوگئی۔

منافع خوروں نے پھلوں کی قیمت میں بھی اضافہ کردیا۔ ملک کے مختلف شہروں میں کیلے 100 روپے فی درجن میں فروخت کیا جارہا ہے جبکہ خربوزے کی قیمت 60 روپے فی کلو ہوگئی۔

انار کی قیمت 800 روپے فی کلو اور سیب کی 300 روپے فی کلو ہوگئی۔ خوبانی اور آڑو کی قیمت بھی 200 روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔

دوسری جانب مرغی فروشوں نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا فیصلہ کرتے ہوئے 220 روپے فی کلو میں فروخت ہونے والی چکن 260 روپے کلو میں بیچنا شروع کردی۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ حکمرانوں نے بجٹ اور منافع خوروں نے ماہ صیام سے قبل مہنگائی سے عام آدمی کے لیے زمین تنگ کر دی ہے۔

Read more »

وفاقی بجٹ 2017 , پان سگریٹ مہنگی ,ڈائپر سستا

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے 5 ہزار 103 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا، جس میں آمدنی  کا تخمینہ 4 ہزار 681 ارب روپے لگایا گیا ہے، سالانہ ترقیاتی فنڈ کے لیے 1001 ارب، دفاع 920 ارب، تعلیم 133 ارب اور صحت کی مد میں 49 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافہ کردیا گیا

اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبولﷺ سے ہوا،نعت ختم ہوتے ہی چند ارکان نے بات کرنے کی کوشش کی تاہم اسپیکر نے منع کردیا اور کہا کہ یہ روایت بن جائے گی آج تک ایسا نہ ہوا، درخواست ہے سب بیٹھ جائیں، بجٹ کے بعد بات کریں

بجٹ2017-2018 میں دفاع کے لیے کل920 ارب روپےمختص کیے گئے ہیں جب کہ افواج پاکستان کا ایڈ ہاک الاونس  تنخواہ میں ضم کردیا گیا ہے۔

الیکٹرانک اشیاء کے ڈیلر، ڈسٹری بیوٹرز، ہول سیلرز پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا گیا ہے۔

پولٹری سے متعلق خام مال کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے اور پولٹری صنعت پر کسٹم ڈیوٹی 11فیصد سے کم کر کے 3فیصد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے،پولٹری کی مشینری پر سیلز ٹیکس کم کر کے 7فیصد کرنے کی تجویز ہے، شتر مرغ کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی معاف کی جارہی ہے۔

آئی ٹی سروسز کی ایکسپورٹ پر سیلز ٹیکس معاف کیاجا رہا ہے، جنوبی کوریا کے تعاون سے اسلام آباد میں آئی ٹی کمپنی قائم کی جائےگی، موبائل ٹیلی فون کمپنیوں کے سامان کی امپورٹ پر ڈیوٹی کم کی جا رہی ہے ۔

ریلوے کی بحالی کےلیے42.9ارب روپےمختص کرنے کی تجویز ہے ،پشاور تا کراچی ریلوے لائن کے لیے چین کے ساتھ ایم او یو پر دستخط کیے گئے ہیں ۔

عالمی ادارے کہہ رہےہیں کہ پاکستان 2030 تک دنیا کی بیس بڑی طاقتوں میں شامل ہوجائے گا ، زرعی پیداوار میں اضافہ حوصلہ افزا ہے، عالمی برادری کا ہم پر معاشی اعتبار مضبوط ہوا ہے،رواں مالی سال میں 700ارب روپے کے زرعی قرضے دیے گئے۔

سروسز سیکٹر میں5 اعشاریہ98 فیصد ترقی ہوئی،حکومت کے غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کی گئی،رواں مالی سال میں 700ارب روپے کے زرعی قرضے دیے گئے، اوور سیز پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں 400 فیصد اضافہ ہوا،پاکستان میں فی کس آمدن 16311 ڈالر رہی، سمندر پار پاکستانیوں کے لیےایک ارب ڈالرز کا نان کنورٹیبل بانڈجاری کیا جائے گا،ان کے لیےسی ڈی اے علیحدہ سیکٹر بھی بنائےگا، الیکٹرانک اشیاء کے ڈیلر، ڈسٹری بیوٹرز، ہول سیلرز پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا گیا ہے۔

وزیراعظم یوتھ پروگرام کےتحت20ارب روپےمختص ، اعلیٰ تعلیم کیلئے38.55فیصد مختص، کم آمدنی والےافرادکےبچوں کیلئے تعلیمی اخراجات میں رعایت دی جائے گی ، بیت المال کابجٹ4ارب کابجٹ6ارب کردیاگیا، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 35اعشاریہ 7ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

کپڑے کی کمرشل درآمد پر6فیصد سیلزٹیکس عائد کیا جارہا ہے، کپڑے کی کمرشل درآمد پرسیلزٹیکس میں اضافہ ہو رہا ہے ،کپڑے کی کمرشل درآمد پر6فیصد سیلزٹیکس عائد کیا جارہا ہے، بچوں کےڈائپرزسستے، ڈائپرزکی درآمدی ڈیوٹی میں کمی کردی ہے ۔

سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کیا گیا ہے یہ اضافہ سگریٹ نوشی کی حوصلہ شکنی کیلئےکیاگیا،پان چھالیاں پر ڈیوٹی مزید بڑھا دی گئی، پان،چھالیہ پرریگولیٹری ڈیوٹی10سےبڑھاکر255فیصد،پان کی درآمدپر200روپےفی کلوریگولیٹری ڈیوٹی عائد کردی گئی ہے ۔

ای بینکنگ پرودہولڈنگ ٹیکس ختم کیا جارہا ہے،رواں اخراجات کوکم کرکے ترقیاتی اخراجات  بڑھارہے ہیںٕ، اسلامی، روایتی طریقے سے بھی قرض دیے جائیں گے،  گزشتہ چار سال میں فی کس آمدنی بائیس فیصد بڑھ کر 1629 ڈالر ہوئی، حکومت نے غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کی ، پاکستان کی معیشت کا حجم 300ارب امریکی ڈالر سے بڑھ گیا ہے ۔

موبائل فونزاورکالیں سستی کردی گئیں، موبائل کالز پرودہولڈنگ ٹیکس ساڑھے12فیصدکردیاگیا، میوچل فنڈز پر ٹیکس بڑھا کر ساڑھے12 فیصد کردیا گیا، موبائل فونز پر کسٹم ڈیوٹی 1000سے کم کرکے650کردی گئی،  تین سال میں 300 ارب روپے کا ٹیکس استثنیٰ واپس ہوا، کارپوریٹ سیکٹر پر ٹیکس کی شرح میں ایک فیصد کمی کی گئی،لکٹری کی شیٹس پرکسٹم ڈیوٹی 16سےکم کرکے 11فیصدکردیاگیا ، ایلومینیم پر ڈیوٹی 10 فیصد سے کم کر کے 5فیصد کرنے کا اعلان کیا گیا۔

سال17-2018میں جی ڈی پی کاہدف 6فیصد ہے 10 لاکھ کےٹیکس پر400فیصد حکومت گارنٹی دے گی، مشینری پرکسٹم ڈیوٹی عائدکی جارہی ہے،ملک میں10لاکھ سے زائد مکانوں کی کمی ہے، اسٹیل سیکٹر پرسیلز ٹیکس میں اضافہ کردیاگیا، بلڈرزاورڈویلپرزپرفکس ٹیکس واپس لے لیاگیا۔

گاڑیوں کی رجسٹریشن پر ود ہولڈنگ ٹیکس میں کمی کا اعلان کیا جارہا ہے ، وزیراعظم اسکیم کی گاڑیوں پر ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کیا جارہا ہے ، گاڑیوںٕ کی درآمدپروودہولڈنگ کم کرنےاعلان کردیا گیا ہے ، 850 سی سی گاڑیوں پر ٹیکس 10 ہزار سے کم کرکے ساڑھے 7 ہزار کردیا، 1000 سی سی پر ود ہولڈنگ ٹیکس کم کرکے 15 ہزار کردیا گیا ، 13 سو سی سی گاڑیوں پر 30 ہزار سے کم کرکے 25 ہزار روپے کردیا گیا، کمی کا اطلاق صرف فائلرزکے لیے ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ سال لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ ہوجائے گا، لوڈشیڈنگ ختم کرنےکیلئے404ارب روپے مختص کئے جارہے ہیں، صنعتوں میں لوڈشیڈنگ مکمل طورپرختم ہوچکی ہے، بجلی کی سبسڈی پر118ارب روپےحکومت برداشت کرےگی، 300 یونٹ بجلی استعمال کرنیوالوں کیلئے سبسڈی برقرار رکھی جارہی ہے ، ٹیوب ویل کیلئے سستی بجلی فراہم کی جائےگی، بجلی کےشعبےکیلئے4کھرب ایک ارب روپےمختص کئے جارہے ہیں، داسومنصوبےکیلئے54ارب روپےمختص،بھاشاڈیم کے لیے 21ارب روپے کی تجویز کی گئی ہے ۔

وزیر خزانہ نے کسانوں کیلئےکم شرح سود پرقرضوں کااعلان کیا چھوٹے کسانوں کیلئےایک ہزار ایک ارب روپے قرضے کا اعلان کیا جارہا ہے ، کھاد کی دیگر اقسام کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی،کھاد کی قیمتیں برقراررکھی جائیں گی، فی کسان50ہزارروپے قرضہ دیاجائے گا۔

مؤثراقدامات پرپاکستان کی ساکھ عالمی سطح پربہترہوئی،مستقبل میںٕ پاکستان کی معیشت مزیدبہترہوگی،نئے سال میں ترقی کاہدف6 فیصد ہے، بے نظیر انکم پروگرام کیلئے1211 ارب روپے مختص، کم ازکم اجرت14نہیں155 ہزار ہوگی،لیپ ٹاپ اسکیم کے لیے 20ارب روپے مختص، غریب طبقے کو ذاتی کاروبار کیلئے50ہزارروپے دیے جایئں گے، کم از کم اجرت 2 ہزار اضافے سے 15 ہزار کر دی گئی، پچپن لاکھ خاندانوں کا کوئی ذریعہ معاش نہیں، ہر فیملی کو 19 ہزار دیں گے۔

بجٹ خسارہ 4.1 فیصد تک رکھنے کا ہدف ہے، زرمبادلہ کے ذخائر 4 ماہ کی درآمدات کے برابر ہیں، ٹیکس وصولیوں کا ہدف 3 ہزار 521 ارب مختص کئے جارہے ہیں۔

سیکیورٹی اداروں کے شہدا کیلئے فلاحی اسکیم کااعلان کیا جارہا ہے، شہداء کے خاندانوں کو سلام فوج، پولیس، سمیت شہداء کے لواحقین کیلئے اضافی رقم رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،فوجی اہکاروں کیلئے10فیصداضافی ضرب عضب الاؤنس دیا جارہا ہے، شہداکےبچوٕں کیلئے سرکاری اداروں میں نوکری کا2فیصدکوٹہ ، بیواؤں کے لیے لاکھ کے قرضے معاف کرنے کااعلان کیا جارہا ہے ۔

سرکاری ملازمین کیلئے خوشخبری، تنخواہ میں 10 فیصد ایڈ ہاک اضافہ کیا جارہا ہے،فوج،سرکاری ملازمین کےایڈہاک الاؤنس بنیادی تنخواہ میں ضم ، ایڈہاک الاؤنس ضم ہونےکےبعد بنیادی تنخواہ میں10فیصد اضافہ کیا جائے گا، ریٹائرڈسرکاری ملازمین کی پنشن میں10فیصداضافہ، گریڈ 5تک سرکاری ملازمین ہاؤس رینٹ الاؤنس کٹوتی سے مستثنیٰ ہونگے، سالانہ50کروڑ روپے سے زائد آمدنی پر3 فیصد سپر ٹیکس عائد ہوگا جبکہ 85 ہزارماہانہ آمدنی سے اوپرایڈوانس ٹیکس دینا ہوگا، سالانہ10لاکھ روپےآمدنی والے ایڈوانس ٹیکس دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ چار سال میں مشکل ترین فیصلےکیے، اصلاحات کا سفرجاری رکھنے کیلئے پرعزم ہیں، نئے مالی سال میں نئے بانڈز متعارف کرائیں گے، ٹیکس چوری کےخلاف اوای سی پردستخط کیے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ کسانوں کو600ارب روپےکےآسان قرضےدیے، زرعی قرضوں کا ہدف700ارب روہے رکھا گیا،خدمات کے شعبے میں شرح5.28رہ گئی، شرح سود45سال کی کم ترین سطح پر5.75ہے، اسٹاک مارکیٹ ایشیا کی بہترین اسٹاک مارکیٹس میں سے ہے،زرعی قرضوں کا ہدف700ارب روہےرکھاگیا۔

خورشید شاہ سمیت اپوزیشن ارکان ایوان میں واپس آگئے یاد رہے اپوزیشن نےاجلاس ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑدیں تھیں ۔

معیشت کاحجم 300ارب امریکی ڈالرسےتجاوزکرگیا، تمام فصلوں میں اضافہ ریکارڈ کیاگیا، کاروبار میں روزگار کے نئے موقع میسر آئے، چار سال کے دوران فی کس آمدنی میں 22فیصداضافہ ہوا، یکم جون سےپاکستان اسٹاک ایمرجنگ مارکیٹ بن جائےگی۔

اس سال جی ڈی پی کی شرح 5.26رہی، مشینری کی صنعت میں40فیصداضافہ ہوا، زراعت کےشعبےمیں3.46اضافہ ہوا، بلوم برگ نے پاکستان اسٹاک کو دنیا کی پانچویں بہترین اسٹاک قراردیا،پاکستان کوبہترین اصلاحات پر10ملکوں میں شامل کیاگیا،مؤثراقدامات پرپاکستان کی ساکھ عالمی سطح پربہترہوئی، پاکستان2030 میں جی ٹوئنٹی میں شامل ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ 2013 میں پاکستان دیوالیہ کے قریب تھا ،عالمی سطح پرمعیشت کوغیرمستحکم قراردیاگیاتھا ، گزشتہ4سال میں ٹیکس محصولات میں81 فیصد اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ جی ڈی پی کی شرح گزشتہ10سال کےمقابلےمیں زیادہ ہے،زرعی شعبےمیں ترقی کی رفتار3.5فیصد رہی، تجارتی خسارہ 8.2سےکم ہوکر4.2رہ گیا ہے۔

وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ آج پاکستان تیزترین ترقی کی رفتارپرگامزن ہے، کسی بھی حکومت کے لیے ترقی کی خاطر قرضہ لینا برا نہیں ہے ۔

وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ آج پاکستان تیزترین ترقی کی رفتارپرگامزن ہے،جی ڈی پی کی شرح گزشتہ10سال کےمقابلےمیں زیادہ ہے

Read more »

وفاقی بجٹ 2017 میں کس شعبے کو کتنا ملے گا , تفصیلی جائزہ

اسلام آباد: وفاقی بجٹ 2017 کی اہم تفصیلات کے مطابق وفاقی ترقیاتی بجٹ کیلئے 162ارب روپے غیر ملکی ذرائع سے آئیں گے۔

، دستاویز کے مطابق وزارت داخلہ کیلئے15ارب66کروڑ روپے مختص کیے جائیں گے، جب کہ ایوی ایشن ڈویژن کیلئے4ارب34کروڑروپے، کابینہ ڈویژن کیلئے15کروڑ96لاکھ روپے، کیڈ کیلئے5ارب18کروڑ روپے، ماحولیاتی ڈویژن کیلئے81کروڑ 50لاکھ روپے، وزارت تجارت کیلئے ایک ارب20کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

نئے بجٹ میں مواصلات ڈویژن کیلئے13ارب66کروڑ روپے، دفاع کیلئے53کروڑ50لاکھ روپے، دفاعی پیداوار ڈویژن کیلئے4ارب،44کروڑ روپے، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کیلئے27کروڑ روپے سےزائد، وفاقی نظام تعلیم کیلئے2ارب روپے سے زائد، خزانہ ڈویژن کیلئے18ارب93 کروڑ روپے، خارجہ امور ڈویژن کیلئے20کروڑ روپے، ایچ ای سی کیلئے35ارب،66 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

جاری کردہ دستاویز کے مطابق ہاؤسنگ اینڈ ورکس کیلئے10ارب38کروڑ روپے، انسانی حقوق ڈویژن کیلئے20کروڑ60لاکھ روپے، صعنت پیداوار ڈویژن کیلئے2ارب73کروڑ روپے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کیلئے1ارب53کروڑ روپے، بین الصوبائی رابطہ کیلئے3ارب روپے سے زیادہ، کشمیر اور گلگت بلتستان کیلئے43ارب64کروڑ روپے، نیشنل فوڈ سیکیورٹی کیلئے1ارب61کروڑ روپے، نیشنل ہیلتھ کیلئے 48ارب77کروڑ روپے، وزیراعظم یوتھ پروگرام کیلئے20ارب روپے ہونگے۔

نئے بجٹ میں آئی ڈی پیز کیلئے مخصوص بجٹ رکھا گیا ہے، دستاویز کے مطابق آئی ڈی پیز اور سیکیورٹی کیلئے90ارب روپے، بجلی کے منصوبوں کیلئے60ارب90کروڑ روپے، سرحدری امور ڈویژن کیلئے26ارب90کروڑ روپے اور ریلوے ڈویژن کیلئے42ارب90کروڑ روپے مختص ہونگے

Read more »

اسلام آباد : تاریخ میں پہلی بار نواز حکومت پانچواں بجٹ آج پیش کرے گی

اسلام آباد : تاریخ میں پہلی بار نواز حکومت پانچواں بجٹ پیش کرے گی، چار ہزار آٹھ سو ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش ہوگا، وزیر خزانہ اسحاق ڈار آئندہ مالی سال کا بجٹ ایوان میں پیش کریں گے۔
بجٹ آرہا ہے اور ہمیشہ کی طرح مہنگائی بھی لارہا ہے، ایک دو نہیں سیکڑوں درآمدی اشیاء پر کسٹمز، ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافہ ہوگا، زراعت کے شعبے کی بات کریں تو یہاں سیلز ٹیکس کی شرح میں کمی کی جائے گی، جب کہ نان فائلرز سے چالیس ارب روپے اضافی ٹیکس لیا جائے گا۔
قالین اور چمڑے کی مصنوعات بنانے والے ٹیکس سے مسثنیٰ ہونگے، سیکیورٹی اخراجات کیلئے سپر ٹیکس سے تیس ارب آمدن متوقع ہے، وفاقی ترقیاتی منصوبوں کیلئےایک ہزار ایک ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
معاشی ترقی اور مہنگائی کا ہدف چھ فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دس سے پندرہ فیصد اضافہ بھی متوقع ہے، جس کیلئے بالترتیب 395 اور 275 ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔  

Read more »

رواں مالی سال شرح نمو 5.28 فیصد رہی: اقتصادی جائزہ پیش

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے مالی سال 17-2016 کا اقتصادی جائزہ پیش کردیا۔ اسحٰق ڈار کے مطابق رواں مالی سال شرح نمو 5.28 فیصد رہی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے مالی سال 17-2016 کا اقتصادی جائزہ پیش کردیا۔ حکومت ایک بار پھر شرح نمو کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی جو 5.7 تھا۔

اسحٰق ڈار کے مطابق رواں مالی سال کی شرح نمو 5.28 فیصد رہی۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ عالمی بینک پاکستان کی غیر جانب دار اسٹڈی کرے گا۔ پاکستان کی شرح نمو 20 فیصد انڈر اسٹیٹ ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار شرح نمو 5.28 فیصد کی سطح پر آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلی بار پاکستان کی معیشت کا حجم 300 ارب ڈالر رہا۔ جی ڈی پی میں اضافے کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔

اسحٰق ڈار کے مطابق بڑی صنعتوں کی ترقی میں بہتری کا رجحان دیکھا گیا اور شرح 5.06 رہی۔ گیس ڈسٹری بیوشن، بجلی کی پیداوار میں ترقی کی شرح میں 3.4 فیصد اضافہ ہوا۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ گزشتہ سال زراعت کی شرح نمو منفی جو 0.25 فیصد رہی۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ سال کے لیے شرح نمو کا ہدف 6 فیصد سے اوپر رکھا ہے۔ اہم فصلوں کی ترقی کی شرح 4.1 فیصد رہی۔ گندم کی پیداوار 25.75 ملین ٹن رہی۔ مکئی کی پیداوار 6.13 ملین ٹن رہی۔ کپاس کی پیداوار 10.7 ملین بیلز رہی۔

 

Read more »

آئندہ بجٹ میں جی ڈی پی کا ہدف 6 فیصد رکھیں گے , اسحاق ڈار

اسلام آباد : وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ آئندہ بجٹ میں جی ڈی پی کا ہدف 6 فیصد رکھیں گے اور مالی اقدامات پر مبنی پالیسیاں متعارف کرائیں گے۔

وفاقی وزیر اسحاق ڈار نے جاپانی میگزین کو دیئے گئے اپنے ایک انٹرویو میں پاکستان میں معیشت کی بحالی اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافے کے لیے کیے گئے حکومتی اقدامات کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں مالی اقدامات پر مبنی پالیسیاں متعارف کرائیں گے جب کہ جی ڈی پی کا ہدف 6 فیصد تک رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ آئی ایف سی سے انفرا اسٹرکچر بینک کے قیام کا معاہدہ کیا ہے جس سے ملک کی معیشت پر گہرے اثرات پڑنے کی امید ہے۔

توانائی کے بحران پر قابو پانے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ملک میں 25 ہزار میگا واٹ کے بجلی منصوبوں پر کام جاری ہے جن کے نظام میں شامل ہونے کے بعد لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ممکن ہو پائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 10 ہزار میگا واٹ بجلی مارچ 2018 تک سسٹم میں شامل ہوجائے گی جس کے لیےگیس درآمد کر رہے ہیں جس کے بعد توانائی کا بحران ختم ہوجائے گا

Read more »

Scroll Up